صوفیانہ موسیقی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ایسی موسیقی جس کو سن کر وجد کی کیفیت طاری ہو جائے، کیف آور یا وجد آور موسیقی۔ "ہم اور چیزوں کے علاوہ کشیمر کی صوفیانہ موسیقی میں استعمال ہونے والا ساز سنطور بھی ان کے لیے لے گئے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٨٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'صوفیانہ' کے بعد عربی اسم 'موسیقی' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٢ء کو "آتش چنار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایسی موسیقی جس کو سن کر وجد کی کیفیت طاری ہو جائے، کیف آور یا وجد آور موسیقی۔ "ہم اور چیزوں کے علاوہ کشیمر کی صوفیانہ موسیقی میں استعمال ہونے والا ساز سنطور بھی ان کے لیے لے گئے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٧٨٠ )

جنس: مؤنث